سب سے پہلے: حفاظت
گرڈ کی بجلی بند ہو تب بھی پینل سے تیز ڈی سی کرنٹ آتا ہے، اور بیٹری بہت زیادہ کرنٹ دے سکتی ہے۔ انورٹر کا کور کبھی نہ کھولیں، سسٹم چلتے ہوئے ڈی سی تاریں نہ کھینچیں، اور بچوں کو انورٹر اور بیٹری سے دور رکھیں۔
ایرر عام طور پر کیا بتاتا ہے
ہر برانڈ کے کوڈ الگ ہوتے ہیں، اس لیے اپنے ماڈل کا کوڈ کتابچے یا برانڈ کی ایپ میں دیکھیں۔ عام طور پر ایرر چند قسم کے ہوتے ہیں:
- گرڈ کے ایرر (وولٹیج یا فریکوئنسی ٹھیک نہیں): اکثر واپڈا یا بجلی کمپنی کی سپلائی کا مسئلہ؛ انورٹر انتظار کر کے خود جڑ جاتا ہے۔
- پی وی یا آئسولیشن ایرر: پینل کی طرف نمی، خراب تار یا کنیکٹر کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
- بیٹری ایرر (کم، زیادہ وولٹیج، کمیونیکیشن): بیٹری کی سیٹنگ، کمزور بیٹری یا ڈھیلی تار۔
- زیادہ گرمی: انورٹر بہت گرم ہے؛ دیکھیں کہ ہوا کے سوراخ بند تو نہیں اور سیدھی دھوپ میں تو نہیں لگا۔
- اوورلوڈ: ایک ساتھ بہت بھاری چیزیں، جیسے اے سی، موٹر اور استری اکٹھے۔
آپ خود یہ محفوظ کام کر سکتے ہیں
- ایرر کوڈ اور انورٹر کے ماڈل لیبل کی صاف تصویر لیں۔
- اے سی اور ڈی سی بریکر آن ہیں یا نہیں دیکھیں۔ کوئی بریکر بار بار گر رہا ہو تو بار بار آن نہ کریں، مستری بلائیں۔
- کچھ بھاری چیزیں بند کر کے دیکھیں کہ اوورلوڈ ایرر ختم ہوتا ہے یا نہیں۔
- ری اسٹارٹ صرف کتابچے میں لکھے طریقے اور ترتیب سے کریں۔
- انورٹر کی وائی فائی ایپ ہو تو ہسٹری دیکھیں، اس میں پتا چلتا ہے خرابی کب شروع ہوئی۔
مستری کو تب بلائیں جب
اگر انورٹر ابھی وارنٹی میں ہے تو پہلے بیچنے والے سے رابطہ کریں۔ کسی اور سے مرمت کروانے پر وارنٹی ختم ہو سکتی ہے۔
- جلنے کی بو آئے، دھواں نظر آئے یا چٹخنے کی آواز آئے۔
- کوئی بریکر بار بار گرے۔
- ری اسٹارٹ کے بعد وہی ایرر دوبارہ آئے۔
- بیٹری پھول رہی ہو، لیک کر رہی ہو یا بہت گرم ہو۔