اپنے بلوں سے شروع کریں
پچھلے 12 مہینوں کے بجلی کے بل اکٹھے کریں اور ہر مہینے کے یونٹ (kWh) لکھیں۔ گرمیوں میں اے سی کی وجہ سے یونٹ سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سسٹم کا سائز آپ کے استعمال کے حساب سے، خاص طور پر دن کے استعمال کے حساب سے ہونا چاہیے۔
ایک موٹا اندازہ
پاکستان کے زیادہ تر حصوں میں صحیح جگہ لگا 1 کلو واٹ پینل اوسطاً تقریباً 3.5 سے 5 یونٹ روزانہ بناتا ہے، موسم، مٹی، سایہ اور رخ کے حساب سے۔ اپنے اوسط روزانہ یونٹ کو تقریباً 4 سے تقسیم کریں تو ابتدائی سائز ملتا ہے، پھر مستری چھت دیکھ کر ٹھیک کرے۔ اسے صرف پہلا اندازہ سمجھیں۔
وہ چیزیں جو سائز بدل دیتی ہیں
- دن کے بھاری لوڈ: انورٹر اے سی، پانی کی موٹر، واشنگ مشین اور استری۔
- رات کا بیک اپ: رات کو چیزیں چلانی ہیں تو اس کے حساب سے بیٹری چاہیے۔
- چھت کی جگہ اور سایہ: پانی کی ٹینکی، درخت اور قریبی عمارتیں بجلی کم کرتی ہیں۔
- پینل کا رخ اور جھکاؤ: پاکستان میں عام طور پر جنوب کی طرف اور مناسب جھکاؤ بہتر رہتا ہے۔
- میٹرنگ کے قاعدے: جب بجلی بیچنے کا ریٹ کم ہو تو اپنے استعمال کے برابر سسٹم بہتر ہے۔
عام غلطیاں
- صرف فی واٹ قیمت دیکھ کر لینا اور انورٹر اور اسٹرکچر کا معیار نظر انداز کرنا۔
- پیسے بچانے کے لیے صحیح ارتھنگ اور ڈی سی حفاظت چھوڑ دینا۔
- گرمیوں کے اے سی کے لیے بہت چھوٹا، یا اصل ضرورت سے بہت بڑا سسٹم لینا۔
- برانڈ، ماڈل اور وارنٹی کی لکھی ہوئی لسٹ نہ لینا۔